اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، افغانستان میں اقوام متحدہ کے معاون مشن (یوناما) نے جمعرات 22 مرداد کو جاری بیان میں کہا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے پانچ سال بعد افغانستان نے سکیورٹی کی صورتحال میں کچھ بہتری دیکھی ہے۔ جنگ اور مسلح جھڑپوں میں کمی سے بہت سے افغان شہریوں کو عملی فوائد حاصل ہوئے ہیں اور ملک کی بحالی، ترقی اور علاقائی اقتصادی تعاون پر توجہ مرکوز کرنے کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
یوناما نے گزشتہ پانچ برس کے دوران طالبان کی جانب سے پوست کی کاشت پر عائد پابندی کو مثبت اقدامات میں شامل قرار دیا۔
تاہم یوناما نے خبردار کیا کہ خواتین اور لڑکیوں کے حقوق پر طالبان کی سخت پابندیوں کے نتیجے میں گہرے سماجی اور اقتصادی نقصانات پیدا ہوئے ہیں، جو قلیل اور طویل مدت دونوں میں افغان عوام کو متاثر کررہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیاں بین الاقوامی روابط اور سرمایہ کاری میں اضافے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں، جبکہ دہشت گردی سے متعلق خدشات نے افغانستان کے پڑوسی ممالک اور عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی نائب خصوصی نمائندہ اور یوناما کی سربراہ جورجیت گانیون نے کہا کہ گزشتہ پانچ برس نے ظاہر کیا ہے کہ کئی دہائیوں کی جنگ کے بعد افغان عوام امن اور استحکام کو بہت اہمیت دیتے ہیں، تاہم پائیدار امن اور خوشحالی صرف جنگ کے خاتمے سے حاصل نہیں ہوسکتی۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان کا مستقبل ایسے معاشرے کی تشکیل سے وابستہ ہے جہاں تمام افغان شہریوں کے حقوق اور صلاحیتوں کو بروئے کار آنے کا موقع ملے اور ادارے جواب دہ اور ذمہ دار ہوں۔
گانیون نے کہا کہ افغان عوام، خطے اور عالمی برادری کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے طالبان حکام کو خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیاں ختم کرنا ہوں گی تاکہ وہ تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں مکمل طور پر حصہ لے سکیں۔ انہوں نے بنیادی حقوق و آزادیوں کے تحفظ اور سلامتی و دہشت گردی سے متعلق عالمی خدشات دور کرنے پر بھی زور دیا۔
یوناما کے مطابق یہ اقدامات عالمی برادری کی توقعات کے ساتھ ساتھ افغانستان میں طویل مدتی استحکام اور خوشحالی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے مشن نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اصولی اور عملی بنیادوں پر افغانستان کے ساتھ اپنا رابطہ جاری رکھے، افغان عوام کے مطالبات کی حمایت کرے اور افغانستان کی صورتحال میں بہتری، تعمیرِ نو اور عالمی برادری میں دوبارہ انضمام کے لیے طویل مدتی جامع حکمتِ عملی اپنائے۔
یوناما یاد دہانی کرائی کہ اقوام متحدہ نے 2021 سے طالبان حکام کے ساتھ رابطہ جاری رکھا ہوا ہے اور انسانی امداد و بنیادی خدمات کی فراہمی کے ذریعے افغان عوام کی حمایت کررہا ہے۔
آپ کا تبصرہ